گھر کے زیور کی زکوٰۃ: ہر مالک کا حساب الگ
والدہ، بیٹی اور بہو کا اپنا اپنا سونا: زکوٰۃ کس پر، سونے کا نصاب کب، اور تھوڑی نقدی سے کیا بدلتا ہے۔
TurantTools PK ٹیم · اپ ڈیٹ 28 اکتوبر، 2026 · 3 منٹ
گھر میں سارا زیور اکٹھا رکھا ہو تو لوگ اکثر سب کو جوڑ کر ایک زکوٰۃ نکالتے ہیں۔ مگر زکوٰۃ ہر مالک پر الگ ہے: جو زیور بیٹی یا بہو کی ملکیت ہے، اس کا حساب اسی کے مال میں ہوگا۔
ایک گھر، تین مالک
| کس کا | نصاب | کل مال | نصاب کی رقم | زکوٰۃ |
|---|---|---|---|---|
| والدہ: 10 تولہ، نقد نہیں | سونا (7.5 تولہ) | 3,666,667 روپے | 3,000,000 روپے | 91,667 روپے |
| بیٹی: 4 تولہ، نقد نہیں | سونا (7.5 تولہ) | 1,466,667 روپے | 3,000,000 روپے | نہیں |
| بہو: 4 تولہ + 20,000 نقد | چاندی (52.5 تولہ) | 1,486,667 روپے | 367,500 روپے | 37,167 روپے |
کیا دیکھنا ہے
- جس کے پاس صرف سونا ہو (نقد، چاندی یا تجارتی مال بالکل نہ ہو) اس کے لیے نصاب ساڑھے سات تولہ سونا ہے۔ اسی لیے بیٹی کے 4 تولہ پر زکوٰۃ نہیں بنتی۔
- جس کے پاس سونے کے ساتھ تھوڑی سی بھی نقدی ہو، حنفی فقہ میں سب ملا کر چاندی کے نصاب سے دیکھا جاتا ہے، اس لیے کم سونے پر بھی زکوٰۃ بن جاتی ہے۔
- جہیز یا تحفے میں ملا زیور اسی کی ملکیت ہے جسے دیا گیا؛ والدہ اسے اپنے مال میں نہیں گنتیں۔
- کوئی دوسرا اجازت سے کسی کی طرف سے زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے، مگر حساب مالک کے مال پر ہی ہوگا۔