وصیت کی ایک تہائی حد: مثال کے ساتھ حساب
قرض کے بعد ترکے کے ایک تہائی سے زیادہ وصیت، یا وارث کے لیے وصیت اجازت کے بغیر نہیں۔ 1.2 کروڑ کے ترکے پر تین مثالیں۔
TurantTools PK ٹیم · اپ ڈیٹ 28 اکتوبر، 2026 · 3 منٹ
وصیت (وصیّت) کے ذریعے آپ اپنے ترکے کا ایک حصہ کسی ایسے شخص یا ادارے کو دے سکتے ہیں جو آپ کا وارث نہیں، جیسے مسجد، مدرسہ، کسی رشتہ دار کا بچہ یا خیراتی ادارہ۔ مگر اس کی حد ہے: قرض اور تجہیز و تکفین کے بعد زیادہ سے زیادہ ایک تہائی۔
12,000,000 روپے کا ترکہ، 2,000,000 روپے قرض اور اخراجات
قرض اور تجہیز و تکفین کے بعد 10,000,000 روپے بچتے ہیں، اس لیے وصیت زیادہ سے زیادہ 3,333,333 روپے تک چل سکتی ہے۔
| وصیت میں لکھی رقم | جو ادا ہوگی | وارثوں کے لیے باقی | ایک تہائی تک کم ہوئی؟ |
|---|---|---|---|
| 1,000,000 روپے | 1,000,000 روپے | 9,000,000 روپے | نہیں |
| 3,000,000 روپے | 3,000,000 روپے | 7,000,000 روپے | نہیں |
| 5,000,000 روپے | 3,333,333 روپے | 6,666,667 روپے | ہاں |
وصیت کے اصول
- ترتیب: پہلے تجہیز و تکفین، پھر قرض، پھر وصیت (ایک تہائی تک)، اور باقی وارثوں میں شرعی حصوں کے مطابق۔
- کسی وارث (جیسے بیٹا یا بیوی) کے حق میں وصیت دوسرے وارثوں کی اجازت کے بغیر نافذ نہیں ہوتی۔
- اپنی زندگی میں دیا گیا تحفہ (ہبہ) وصیت نہیں؛ ہبہ میں قبضہ دینا ضروری ہے۔
وصیت لکھنے کے آسان قدم
- اپنے قرض اور جائیداد کی فہرست بنائیں۔
- وصیت کس کے لیے ہے اور کتنی، صاف لکھیں، اور تاریخ ڈالیں۔
- دو گواہوں کے سامنے دستخط کریں اور ایک نقل کسی بھروسے والے شخص کو دیں۔