ترنت ٹولز

غیر شادی شدہ بیٹے کی وفات پر وراثت: والدین اور بہن بھائی

حنفی فقہ کی تین مثالیں: والد بہن بھائیوں کو کیوں محروم کرتا ہے، اور دو یا زیادہ بہن بھائی والدہ کا حصہ 1/3 سے 1/6 کیسے کرتے ہیں۔

TurantTools PK ٹیم · اپ ڈیٹ 28 اکتوبر، 2026 · 3 منٹ

جب کوئی غیر شادی شدہ بیٹا فوت ہو جائے جس کی بیوی یا اولاد نہ ہو، تو ترکہ والدین اور بہن بھائیوں میں جاتا ہے۔ مگر حنفی فقہ (جو پاکستان کی عدالتیں لاگو کرتی ہیں) میں والد کی موجودگی میں بہن بھائی محروم ہو جاتے ہیں، اور بہن بھائیوں کی تعداد والدہ کا حصہ بدل دیتی ہے۔

10,000,000 روپے کا خالص ترکہ: تین صورتیں

والد، والدہ اور دو بھائی

وارثحصہرقم
والدہ1/61,666,667 روپے
سگے بھائی (2)محروم0 روپے
والد5/68,333,333 روپے

والدہ، ایک بھائی اور ایک بہن (والد پہلے فوت)

وارثحصہرقم
والدہ1/61,666,667 روپے
سگا بھائی5/95,555,556 روپے
سگی بہن5/182,777,778 روپے

والدہ اور ایک بھائی (والد پہلے فوت)

وارثحصہرقم
والدہ1/33,333,333 روپے
سگا بھائی2/36,666,667 روپے

اہم نکات

پہلی صورت میں بھائی کچھ نہیں لیتے، مگر دو یا زیادہ بہن بھائیوں کی وجہ سے والدہ کا حصہ 1/3 سے 1/6 ہو جاتا ہے۔ تیسری صورت میں صرف ایک بھائی ہے، اس لیے والدہ کو 1/3 ملتا ہے۔

وراثت کیلکولیٹر (اسلامی)اپنے خاندان کے وارث ڈال کر حصے دیکھیں۔

ذرائع

مزید مضامین